کچ 09 27 ہے 2 ََ رع 2٦‏ 2 سس

اوکارہ

زی دا گب مھا مس می امو ٹالاسی

اشداء عللی الکفار )ہی الحکم الشرعی لساب زا ات

نوز ٹور ملاک ےکسا ود ا کا جم ق رن و سنت وا تال علماۓ اتکی رو می یل

تال سلام وا مسلیین استازالعلراء شالت مجن مو انا خلام یی اوکاڑ کی ر ححتہ اللہ علیہ

نار : شعبہ بدارالا فء م رکز دارااعلوم سا معہ حخیہ اشرف ارارک اوکاڑہ

ا ۓےکفتی

و روہ

لہ را کے عم شرعی سے متعق ق رآ یآیات اوراقوالش مس رین اعادیے مپا کہ

مفنیان عل فکیکتب سے جو الات

اوا لع

مار ول کے کلق مپو رر کی عمارات

رحب (حافظ )فلا یا ین نا تم دارااا فقاو مین السفتی غلام دعی اہر 1

لن ےکا پچ : شعبہ نر واشاعت ار ف الد ارس مان روڈاو ژڑہ

پر تی ا تم رت لہ النقر انار حم ارڈ علیہ کا حر تارف

حطرت جن لق رن رحت الل ہی ضیلعگجرات کے ایک گائوں میانیاں ناہ

ر مان الپارک ١٣۰۸‏ اھ بیس دبٹیگھرانے میس چو رر سلطاان ا کے گھ پیا ہوۓ ابق ائی نعلیم آپ نے لی کک جوڑاکر اذہ میں عا ص لکی و بتی نعل مکیلے ق ری

گنول ج کہ عم رکیک کے نام سے مشمور ہے وہاں تنشریف نے گئے ہد دفو کے ا ہور یں درس پچھونے میاں میں بھی داخلہ لیا( یہ در سگاہ شالار مارباغ اور نضرت میاں میر

کے اشن سے ) تقر یبا ۱۳۔۵ اسما لکی عم سآپ جالند ھ شس پچ گے اور جا

معقول و مل ن ضل مقق حرنت موا ج عبزا مل براروی اوز مر ا مات ہکرام رے

مو قوف علی ہک یکپ بڑھیس اور یہ بات تصوصا قابل ذکر ‏ ےک آپ کے استاذ تم

عمش کی مز کے بعد علہ عالی شر چالند ع میں ذر سس تق رآن مجیدمیائن فرماتے ت آپ ان

کیا تو ورس 7آن سن ےکیلئۓ روز جااکر ے ے یہنا ی ہآ پکوانقد تھا ی نے وہل عطا فرمایاکہ ق مآ نکر مکی مشممور نفاسر ملاحظہ فرماتے ر سے اور ایند تی نے تر نکر می مکی

بفر مان “من یرد الله به خیرا یفقه فی الدین۔آکروواتترار عطا فرب یکہ علاۓے ال سنت ن ےآ پکو لق رآ کالب دیا۔ ۱۹۳۹ء یں آپ نے

تب الا تاف ا ہور سے سیر فراخحت عا عمل فرمائی خر صہ دوب کک ہو شیاز اور یل

آپ نے خطات کے فرائ ضز اشام ہے بعد لزان اننینے شع جات کے قصبہ گوعڑرکی ید نی غدما کیل نٹ ریف نے سے ۱۹۳۹ء م کفآ پ کا قا مگو ھی ہی میس 7ہا ای دو زان ہد مھ ہبوں ‏ ےکئی مناظظر ہے بھی ہو ۓ جن یں ادبند تقالی نے ائل سنت د ماع ت کو ور رت عطا فرمائی بعد یں ائل اوکاڑہ کے زور اضصرار راپ

فروری میں ائل سنت و جماح ت کی م رکز یی ور گا وارااعلوم چامعہ نیہ شرف الربد ارک اوکاڑ ہکا سک اد رکھا اور ا نے آپ کو ق رن وسنت 1 ا سے کیلع

4 ۱

عُب وروز را کیل وف کر دیا۔ ر مفمان لباک ٹش ہر سال ددر) تفیر خرن پڑھاۓ اور صھی کات اور مور مباحث اور ملف فیہ مسائل پر سیر جا صل نگ را ای سے مقر ٠٣٠‏ سال دورہ ق کن پاک پڑھایا اور ملف شمروں وہال احہاب ائل سن کی فر نٹ پر تثربیف اجاتے رے لاہورہ فی لآباداؤ ہک ابی شر میس دورہ ق رن پاک پٹ نے والو کی نجراو شالی ہوئی تی ىہ حفرت قبلہ جال رآ نکی بلو رفس رف رن خر مات تین او روز مد ٹآپ ددرحدمڈپاک تترمآن ۳سال تک پڑھاتے ر ہے او کر ہو تمار اور ان شاگرووں ےآ سے نیت ا مل ای ریذن دگیآپ نے ملک ح کی خدممت می لگڈاد دی اوربد مہ بیو کو خرن مین جو ابو ےر تب می اکویب ف بت کے ممائنتے مہب بی کےغلاف ٠‏

با کر جا ت فو ا آپ ال کارد ینغ فرما نے ق ران و سن تکیارو شی یس ایباجواب مت ار شاد رما ےکلہ خال فکوہو ل ےک یتخانش باقی ضہ رہق دسمالیہ خذ اا کادا گن وت" ہے پر ما ول ملگات مرو الد رت کت ورغ تر ول

پیک جزبہ عوام الناس مل پزاارر کاو ‌وروڑپراخر لاۓ رے کہ

اپ نے آنخز ی ایام میس جب ہآپ عئیل تھ طبیجعت یس نقاہت او کنزور یی کے آعار خرایوں

جب بھی ال۲ نکی طرف سےکوکی اعترائض یا سوا لآیا فا سںکاعحمل جواب دۓ

کنا ےکپ کے حوا جات ارشاو رات چنانچہ پچ ینالہ خورد سے ایک حرۓ تلم ال رن ر حمتہ اللہ تھی علبیہ کے دم ینہ یاز مند حافظ عبدالرزاقی صاحب ج کہ ہل

کول کے مار ہیں نے سوال پھچاکہ امام ا مھ ر حتہ ایق علیہ اور ضر ت اوزائی ر تہ

الد تعاٹی علیہ کے اشن جو مناظرہ(رٹع بین فا گر تم مہ عندال مامالا عمشمم و عنر

الاوزائی فی عیبر ال کو ابی ہواا کا خر مقلد ین انکا کرت ہیں نیز ا کی سن دبھی

یالنا کیا جاۓ خاش کے جواب میں قبلہ حضرت صاحب ر حمت الد علیہ نے ٢‏ اکب کے ہوا لجا تکگکھواے اور ا کی منمد بھی جائمع مسا نید الا ہام الا عظ حم ض ۵۳ ۳۴لامام

افتیہ تا سے النتیۂاۃابوالو یر مجر من مور موی ۱٦۵‏ ھ)ے ائی ور مک رین سے

سوال کو اپاکمہ پم نے تماد یباتں کے مسلکت جو اب دے و نے ہیں اب تم ہمارے

5

سوا لکاجواب دو ہم منکر بن سے مہ دیاش تک نا چاٹتے ہی کہ اس واقعہکو سب سے پیل جن نے مم نگت اور بل کماہے ا سکا نام مع سندہتایا جا اور اس کے مشکی عالاث ا ساتۓ ال لک یت مشت رہ سے اتل سے ججانمیں اوران وت سے مت اک بویا برا ال کی مخز شممل میا نکی جاۓ ودنہ ان جلیل التقرر علام کے ویک کے کے باوجوو ا ںکو تی او زم یکرت تقرارد با رو عناد اور تحصب کے سوااور تھ یں ے اس رع دی نکی خد مم تکرح ہو ۓ صف رالمظفر ے٣‏ یماح ھک و آپ نے دصال فرماپااور رای ملک تا ہو" ے 2 خدار عم تکند ایں عاشقالن پاک ط؛نت را

کبّہ ”ان العفتی فاامد گی راکبری خاوم چنال رگن علیرر حتے اکر حمان ور ملظ ورام

6

امم (للہ زا رس کیم

نحمدہ ونصلىٰ ونسلع علی رسوله الکریم۔ اش تھا ی ۓ الۓ نے پارےآنزبی رسول جناب مھ مصطفی اج ہحلکی الله ری علیہ فداکودملن تی دی گت کی ا کو تام اویان نال کر دسےت الل لی نے تین ریہ میں دی اسلا مکووہ قوت اور شالن و شوککت عطا فرمال یکہ د خیاورطہ ۶ یرت شس ڈو بگئی چنا نچ انہوں نے اسلام اور ٹر اسلامم کے خلاف ز بیشہ دوانیال رو ار رمق یعلو ولا یعلی کے مطا اتاجی مہ اھر ےگا جقناکہ دباد میں گے چو لوگ اسلا میا مارح خلیہ الصڈا ڈوالساامم کے خلاف زبان شعن درا زکر تے الد تھا لی النا کے جوا بکیلئے ایے علماۓے مج یکو پیدرافرباد باجوان مت فی نکود مدان کن جو اب د نے ای سلسلہ سگذ شن سال آزارسعمیر می راور سے ای کمتتاغ ر سول (یروفسر زار کمن عرزا)

نے ایک د لآزا کاب مقام نبوت کے نام سے تج رم ےکی جس شں چاچازا علق کل کو من و نخین سک زنشانہہتایگیاوہاں کے مسلمان جن کے ووں میں خی مصطفی اور تام فی پش کا پاس ازر و ست ا حا کیا چنان وہکستا خر عول زم اب ؛٭ کر یں د یوار ز ندال پنیا داگیا علق تے کی لوس صرت لہ صاسزارہ یق الر حاان و خی رونے قبلہ ہج الت رن رع الل تال بل اور گر علا کرام سے گیتاغرسو لکاص رج گم ق من و سن تکی رو شی مل ددیاف تکیا قبلہ نضرت صاحب ر مت اللہ تالی علیہ نے چنددٹوں میس ایک جائم فےکی ج کہ ع من بل انل تاہرہدباہرہ ھا تر فر ماکر صا سجززادہ خی الر مان صاح بکوارسال ڈرمادپایف رض افاد) عوام و امیس اپ چم اس ر سال کوشا کر ن ےکی سعادت عا ص٥‏ لکرد ہے میں امید ےکہ اب عم جج رایت ا سک وش لکوظر تین ملاحظہفر میں گے۔ ۱ (ضروری پوٹ) تا مکب کے حوالیات ہم نے فمایت ایا کے سا تھ غم مد سے

7

یس پل ربھی ہو اۓ الا نمانع ھ رکب من امخنطاء وامضیان علاء از اح ب وانش حقرات ۓ از شی ےک تچئم بھی فر کر فق رک مع فائیں ا گے اشن میں ان کو درزس تکردیا جا ےگا رکر بیما نکارپادشوار حیست جب نہ سطوز گر رم کی جارجی میں اک دوس نے نزو خعان کے ایک مولویٰ ضا ضز ید لغ )تا ”مم رسول کا مل “کی طرف لوج و اکا سکتا بپکوپڑ ھکر یں ججر ت (دود وگیاکہ جج مننلہ بر تا لوگ شعفقی ہیں اس مل ہک ویک مے انداز میں تام مسامانول کے مقیدہ کے خلاف جن یمک یامگیا اور جا چا اس مت حفقہ حم ش رج یکاگو کہ نراق اڑایگیااورا سی تخیںک یگئی می ی مم رادگتتاغ رسو لکی شر گی مزاے چناخیہ ات و جماعت کے مناز و محققی اکم مپرد وین و مت اصحضرت ممولا نا الشاہ ام ر ضا ان فاضل بر یی رحمتہ الد تعالی علیہ نےگستاخغ ر سو لکا عم فیاوکی ر ضو بیہص ۳۸ جل ۹ ما اں" ین بوں میا نکیا جو مسلما نم کر حضور اد س جنگ بای نب یکی شیان یس متا کے سے گت مواق 32م گے اور قیام علا ۓ امت مر جوم ہکا اجماجغ ے ا نب کھ ہکاخ ر ے اور جو اس ک ےکفر میں شی کر نے دو چھ یکا فرے۔ یز ۲اجلا٦‏ ٹن ے یکفی واحد منھا فی تکفیرہ ہ و قتلهھ اور علما ۓ داو بد کے بہت بے مناظر مرولوگی منظور تبھلی نے مناظرہ کے دوز ان امام انکر متا خلیہکی ہہ عبات بڑھی" امارقا ام بعد سب مَبِيَھَا“ مر علی لصداۃوالعاا مک گالیال در ۓ جا ے ےد ا مھ یکا و لکش نظار وص ۹۹) نیزاسی میس مولان رذات ت ہین فاروقی دای اھت ہیں' زار ٹزدی یآ حضرت ک کا دنا آپ کی شان می سکت ش یکر الا ظاگاد شن اوربد با کے لے جن مکامزاوارے دود نام واچبپ الخل ے اور داکی ذش۲ کو ان کے ناپاکوجود سے پا کفکرد ناج ہے وائد لی نتزل یر ی ۳۲۴ فک جوبد نعییب حضو کی شوا ناک می ںممتاٹ یکر ے وہ عون ے نمارج از الیم ہے وئیا یس واجب القل اور آخرت می لبدالآبادکیلنے “ھی ہے ص٢‏ دای طرب غیر مقلد بین کے پمیوا تما تضی شوکای احاو یٹ لکیٹے ک بعد تمرم کرتے یں ”فی حدیث ابی عباس و حدیث الشعبی دلیل علی انه

8

یقتل من شتم النبی تَثخ و قد تقل ابن المنذر الاتفاق علی ان من سب النبی بل صریحا وجب قتله۔ (نیل الاوطار ص ٥٠٢‏ چ ج )٤‏ و مثله فی عرف الجادی من جنان ھدی المھدی ص٠۰٣.‏ لیا صل تام کا نپ کر کے نز دی متا ر سو لکش گی عم بی ہے اہر ےئ قرآناد سن تار شنی یں دی نام علاء نے اس من ہکا کور تیم من فربالیاھ خلاف اس کے مولاتاوحیدالد بین خال اپتی ‏ ذکور ٥کاپ‏ (شعخم ر سو لکامتلہ ٹش کھت ہیں ان ون سے قلل شاتم ر سو ل کا مل بکالنالشت اور تفر کے عم سے کی ڑ نے کے ہم می ہے مس ۱۵ا نیز ۷ ا اپ ہکھھاکہ پاکستان کے ایک عا لم مو لان جا ضی مظ ر سن صاحبرشدی کے غلاف یک ممون می سںسککیت ہی ںکہ رشدی جیے ملعون کاواجب ااصتل ہو اک یآ ات سے خات ہے ال سے صاف ظاہر ےکم ام رکانب کے علاء کے نز دیک شا نم رو یکا سی شش گند گ ضا و سا ا کو ماہنۓ کے لے تیر می ںآخر می ں کھت ہیں تقیقت یہ ےک یہ غا تر خود سا شید منلہ ہے ا سکاخدا یکتاب سےکوگی تتلق نہیں سے |0( مواؤالل راتفر ایٹرا یں ٹس صرف یک واقعہ ع رخ لک رج ہوں بت تید یر سال مں ط طہ خربایں جس ےآ پکواندازہ ہو جات ۓےگاکہ بی متلہ خود سا خند خییں۔

واضے ںا کا ما کر ا ا ازع ہوگیا یا دی بے ھااں نے اس ظاہر ملا نکور سول انث یه بس فی ہکر ال ۓےکیل ےکمااس مناظ یل کیج شاک نوع دی رش یہک اورضہرر شوت ےکا من ےگا ال لے اس ثن ےکماکہ تھمارے ما مکحب من اشرف

کے پاس پت ہیں مود اس بات پر رضا من نہ واچنانچہ چارہ ناچار حور مکل 1 : خد مت ین نماض ہے یدک راف گی کے ۱ برق نوز آیا دی نود کو لیر حضرت صمدلقز شیا ال نقالی ع کے پا ںگیادل ے۴ ھی وی م یکنا سکوھی صلی مکرنےبآمادونہہد نر ل یش سو اہم اہر سان ہہول اور یہ یھودگی ہے گھمر کے پا ں پیش دہ یق میرے اسلا ما پا کرت ہے

9

میرے صمح میس فیصلددیں کے چنا ا سی نے ب دی یک گج یا بس پر ر ضا من کر لیاجب ںین تو یہودی نے عر کیکہ لے حضور مك اور حطر ت زا۶ ں مقدم ہکا نمل ورے ص/7 کا روولبہی ۓآ پ گیا لے ححخرت گرڑ نے فر مایا ”روید کما حتی أَخَرُج الیکما۔ را کر انس تنثریف نے سے توار بے جیا سے والیں آۓ اور اس منا کا سر کر دیلو ق یلا مکذا اض علی می الم اراققَطن: الله وَافسَناء رمارله ار نزلت الڈیة و قال رسول الله ٹڈ آمْت الْغَارُوْق۔ "یجراشْراورالں 2 رسول کے فی لکو لیم خی ںکرج مین ا سکابوں فیصل ہیاک جا ہو اص پر ىہ آمت ازل برق رخ ئل نم س زع خرت ع کو الفاروقی (حی دہاٹل میں رق کر یوال) کے قب سے صر فراز فرمیا۔ پا مل ام ان من ۲۹۳۰ جلد امھ مہ مرن اح اتکی قر نی متو 1۵ھ یز آماو نیٹ رسول گیل تن لے نقابات ین اک کی صراحت اور بضاخت مجر لے راکآ رت ا کے را ا کے من رما افاف رکا وو ویک ”نیورےذ تر ٤‏ حدیث ٹیش کوکی مت رروایت ای موجو نیس جس کے عپار سے تک" ٍ 00 کر رو ص١١١‏ _ معاذ اد وکیاایے ران ٤ٗدرگاہ‏ ا سک ففظ مکر) ستغض ارڈ لم 00+01 7 کیں مب ےو ہیں للا اصت ار طفلاں نام ار شد اب ؟م ا سکو اید تعال یٰ کی طرف فی کرت ہیں دتی عق کا راس دکھانید اما ےآنخر یل ر بکرم مکی بارگاو عالی یہ دخ ےکہ میں ساد ددع لمح کی تیموق ری ود سے فواز ےکور اہ مکزا ر شال عم سےنصشی تدم پ سک کی تو فق عطا فرماے جو پارے مصطفی مليلگ سے والمانہ نشی و محبت رک جاور آپ کے ہچ ہو نے وخرو کے پا یکو(لور ھک عا ص٦‏ لکر ن ےکی ےا نکاب اکا لا

10 دتے تھے جیساکہ ج فا کی شر لیف ٹل ے ص۳۱ جلر اباب استعمال فضل وضوء الناس۔ واذا توضاً الخبی ما کادوایتتتلون علیٰ ٢‏ وضوئھ۔ جمہ)اور جب ہ یکر یم ملک وضو فرماتۓے تو لوک آے نے وشو لے گر و انے پا یکو سے کے لج لڑ ن ےکوتیار ہو جاتے جے ری اپنےج ات کواس دای ا

رباعی

2۸0“ ا" : ووائی۔۔ کیزن یئ

7 0 00ب ئ۱

نہ ینک کٹ مروں میں خاجء ملا کی عات >

غردا اد سے نال یی اییاں ہو میں سح

فالحمد لله او و آخرا و ظاہراً و باطناً لرب العالمین والصلاةۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین و علی عباد الله الصنالحین برحمتک یا ارحم الراحمین

استکتبه (حافظ )امیا مج من تی رکا دارال ا ام یہ الوم ارڈ فک الن را٣‏ اوکاڑ ہکتہ شنن المفتی فاام دی راک بی م رکڑئی دارال رام چامھ مزا

۹ عفر المظفر ے٣‏ ما“ ممطال ۲۵ر "۲۰۶۶ء

217 تی بر مصطا مل تیم لور یعلشته (0) یا ایھا الذین امنوا لا تتخذوا اباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان“ ومن یتولھم منکم فاؤلیک هو الظلمون(۲۳) )۲(‏ قل ان کان اباؤکم و ابناؤکم و اخوانکم و ازواجکم و عشیرتکم و اموال* اقتر فتموھا و تجارة تخشون کسادھا و مسکن ترضونھا احب اليکم من الله و رسوله و جھاد فی سبیله فتریصوا حتی یا تی الله بامرہ“ واللّه لا یھدی القوم الفسقین(۲۴)بٔأ التوبة یی اے ا یمان والو اف باپ اور چھا َو یکو دوست نہ سجھ اگ رووا یمان رکف پن دکر یں اور می ںکوئی جوان سے دوس یکر ےگا دی الم ہیں تم خر وک تما ے باپ اور مار تج لور تیارے بھالی اور تھممارگا خو زی اور تھمازراکئہ اور تمما را مال کے مال اوروسوداننس کے صا نکا میم ڈر ے اور تھمارے ند کے ہکان یہ می الد اور اس کے رسول اور ا سکی راہ یں لڑنے سے زیادہ پیا گی ول و راست وھ برا لم کک ال انا عم لا ے اور اید فا قو کوراۃ نید بتا۔ الا ان) (۳) یا ایھا النبی انا ارسلنک شاحدا و مبشرا و نذیرا (۲۵) وداعیا الی الله باذنه و سراجا منیرا۔ ۲۲ الاحزاب۔ص ٢٢‏ جلدءے (تصہ) ا خی پکی جن انیو خی )یت پھر نے وین کیا اض رظ اور 7 1 گاد جااورڈر عاتا- او ز الد یی حر اض ک٤‏ ۶ ےسا جاور چکاد جوالآ فا (کنزالا مان) عن عرباض بن ساریه رضی الله عنه صاحب رسول الله نت

12

یتول انی عبداللّه و خاتم النبیین وابی منجدل فی طینته و ساخب رکم عن ذلک انا دعوۃ ابی ابراھیم۔ و بشارۃ عیسٰی ورؤیا امی آمنه التی رات ی کڈلکے امبات العتن پرین ران ام رسول الله ٹ مخ رأت حین و ضعتھ له نورا اضاأت لھا قصور الشام ثم تلا یا ایھا النبی انا ارسلناك شاعدا و مبشرا و نذیرا وداعیا الی الله باذنه و سراجا منیرا۔ ہذا حدیث صحیح الاسناد ایضأ قال الذھبی صحیح۔ المستدرك للحاکم کتاب التفسیر ۲۱۸/۲ ىہ عد میٹ اگ بالفاظ نار یہ د رذ ب لک میس بھی ہرد ےنت

اخرجھ ابن حبان و ذکر الھیٹمی فی موارد الظمآن )۵۱٥(‏ کتاب علامات نبوۃ نبینا ٹل باب فی اول امرہ (۲۹۳) واحمند فی المسند ١۱۲۸۔۱۲۸‏ والبزار فی مسندہ اوردہ الھیثٹمی فی کشف الاستار ۱۱۳/۳۔ کتاب علامات النبوۃ: باب قدم نبوتھ (۲۳۲۲۵) والطبرانی فی المعجم الکبیر ۸.۔ ۹ والحاکم فی المستدرك ٣٠٠/۲٢‏ کتاب التاریخ باب ذکر اخبار سید المرسلین و قال صحیح الاسناد واقرہ الذھبی و ابونعیم فی حلیة الاولیاء ۸۹/۱۲ فی ترجمة ابوبکر الغسانی (۳۳۲) والبیھتی فی دلائل النبوۃ ۱۳/۲ جماعی ابواب المبعث باب الوقت الری کتب فيه محمد لٹ نییا۔ شرح السنة مؤلفه ابو محمد حسسین ین مسعود بغوی متوفی .۷٢8ھ‏ صا جلدھ جحمہ) نطرت ع بات من سارہ رص ال نہ تضور علیہ الام کے صھاٹی سے روایت سے حضور فرماتۓ ہیں کک میں ال دکاہھ واو رآخری ھی بول عالانکیہ میرے پاپ (آدم) اتی تیر یں لوٹ ر ے اور یں اس با کی تج د تا ہو کہ ٹیل اپنے ہاپ حعفقررتاار اگیم علیہ السلا مکی د ھاکا مصداقی جہول اور بظار نت

13

ین علیہ السلام ہول اور ای ماں ظرت آمنہ کے خوا یکا مصداق ول دوجو اس نے دبا وراسی ط رر امام مالسلا مکی او نک درکھیا جا جا اور نفک سول ارلہ چو کی واللد ہما جرہ نے ولادت کے وقت ٹور و یکھا جن ے ال نکیل شمام کے عحاات رو شن ہو لئ اس کے بعد مور علیہ الصلاپڈوالسلام نے بہآیت محلاوت فرمائییااتھاا نی (۳) ۰۱" انا ارسلنتاك شاقدا و مبشزا و نذیرا(۸)لتؤمنو بالله و رسوله و تعزروہ و توقرورہ* 2

و تسبحوہ بکرۃ و اصیلا (۹).الفتح ص پ رترمھے) یک جم ن میں کھتا حاضر وہ ظ اور خو شی اورڈر سناتا۔ کہ اے لوگ تم اشداوراگےر ول پر یمان لا واور رسو لکی تنی وق ق کرواو رو شا مال کیا یاواو_۔

(نزالا یمان)

(ھ) لا تجد قوما یومنون باللّه والیوم الاخر یوآدون من حاد الله“ و ازسولهھ*وٹوکائا /بَاء ہم او ابناثؤغ آواخوائھُم اوعشیرتھم اولئک کتب فی قلوبھم الایمان و ایدھم بروح منه ویدخلھم جنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا رضی الله عنھم و رضو عنه اولٹک حزب الله الا ان حزب الله عم المفلحون (۲۲) 67 من پا گے ان لوکو ںکوجو لین ر سن ہیں ارڈ اور کے دن پ کہ دو سن یکر یں وش کین 2لا ضسر ا7عف بھائی با کن دانے ہوں یہ ہیں مجن کے دلوں ٹیں الد نے ابمان تل فرمادیورابی طز فک انا را نیس باخوں می لجا ےگا جن کے یج مم میں مھ ویمد ٹشوف ظز دص وس ین اجکی جماعحتکا ماب ہے۔ل(کنزالا یمان )

سر٥‏ ماول ہی آٹر یآیت کے شمان نزول میں مفس ری کرام نے منررجہ یل اقوال تر مفرماۓ ہیں۔

ن‫ ْ

0( حعفرت لوک صدبقی رخ الہ تا یع کے بارے یش بل ہکان کے باپ ابو قافہ عنان نے تضور یکر یم یلگ کی شمان مبارک شس نز ییاالفاطد کے تو

حتاوکر صقر می اعد نے ا لکنا تیادہ ےا یا کو زور نے٣‏ مان مارک دوز شع گر پڑے جب تضور علیہ ااصلاووالسلا مکو معلوم ہوا آپ نے ٰ

فمایلاے اکر تم نے ایی اکا ےآپ نے ع رض کی بی ہاں تضور علیہ السلام نے فرملا دوبار ہالییان ہک نع رخ کی یار سول اش اگ می رے یا۲ ن عوار ہوٹی تم اے ا ریا (۳)اری و ملم میں حضرت ت اٹ ر تع اللد تعالی عنہ سے روایت ےک رت ابو حبیدرور صی الہ تی عنہکاباپ جب جنگ بر یل قیدیی ہوک کیا اس نے تضمور علیہ الصلاوالسلا مکی شالن یں بے اوطی کے الفاظا سے حضرت ابو عبیدہ کے مخ کر نے کے باوجود ضدبازآی و آپ نے اسے موت کےکھا ٹاتجارویا۔(۴) جک رر نرت اویکر صدلم نے اپ یی ےک مار تکیئے لنکارااور تضور علیہ السلام سے ایازت طل کرت نے خ رض نکیا سول ادلہ مکل جن ا جات و کر ین مرا کے پل ہگرووٹیں دال ہو چاوں تو حضور علیہ الصلاواللام نے ار شاو فرب اے ایور میں تم انی ذات ے فا دہ اٹھانے دوفو غیں جاتاکہ رے ہز دای یت کیا اور یر ر کے قاع مقام ہے۔(۴ اور جنگ اعد یش رق وپ مع بی نے ای سے بھائی عبیرین تح کو ف یکر دااورپور جن آزالو ںکو یہ کٹ دی کہ ایر اور ١‏ ان کے رسو لک محبت کے مقابلہ یس تام رشت پچ ہیں۔(۵)اىی رح حضرت عمرر ضی ارڈ عنہ نے اپ ما مو ءا ین با مکو غ لک دیا.(۹)مصصحب نع عیعرر من ارڈ عنہ کے اسیک اور بھاگی ابو ع می گی رکوایک انصار کی صعالی ن ےگ فک لیااوروہا سے پان را اکہ حر مصحب نے دج ہک درا ا نکو ا بھی ط رع باند موا لک دالد و بہت بالدار ہے زیادہ فد بے اداککر ےکی او عز نے می نک رکرا ا مصقب تم چھواگی ہ یکر ام ں رح

کہ رے ہو فو سید مسب ر می اد نہ نے ایمالناافروز جو اب دیااس وقت تم نے ۲

بھائی نیل ہو بلعہ ہہ انصاری میرابھائی سے ہنس نے ےکر فی کیا سے ای طرح )ینکر مین حطرت خل یکر ادج از سیدنا حزور می اللرعنہ لا رید وین

15

الیارث کے مقابلہ بی علیہ شیب اورولیرمن تہ آئۓ چوکہ ان کے عم بزاورر شت داز چے قزر سول اللہ کل کے ان جا شاروں نے ا نک غاد کرش لکر دیاں رو عالضا مظبر ی_ ضا ال رن تیم ال رن ؛ معارف الق رآلنع۔ نر تج رآن۔ رو الیانعن- مولوی شببر ار عثالی دلو بی کی ای آىہ مہا کہ" لا تی کرت ہو ۓ ککھتا سے صعبہ رض امش مکی شان بی ت کہ الشداوررسول کے معاللہ مکی جاور یی روا ت کیانن نے ہش پا اس کازج رک تر ا کو سای تقر میعن کیک عش چم

نہ )اوران یں سے کچھ لوگ اہسے ہیں جن یکر یم کو بی بد زمائی ے)ایذاد تتے ہیں اوردہ کت ہی ںکہ دہ فوکالن ہیں لکان کے جیے ہیں ) فرماد یجن دہ ای بھلا کی کان یں الد یرایھان لات اور لمانو کی بات پ ق۲ نکرتے جو یں۔ اور جو تم یس مسلمان ہیں ا نکیل (دوم رکار علیہ السلاح کرحم یں اور چور عول ا" کو ایراد ے یں )ہ۸( نکی درد اک عزاب سے (۱٦)(اے‏ مسلرافوں )وہ منافی تار ے لئ کی می ںکراتے ہیں کہ ووت مو رض یکر لیس جا لاک الشداور ا کے رصو لاعت زاحد تھاکہ ووا ننکو ر اض یکرت اکر ایمانع رک تھے (۹۴)کیاا نول نے نہ جات کہ جن س کسی نے کھی الد اور اس کے ر سو لکی عخالد تکی بین یقت انن کے لئے ٹپ مکی آگ ہے وواں یں پیش ر ےکا بہت بے ا۸ ہوالی ے(۳ 1" وی تا (۹) کک جو لوک ایاد ین الد اوراسی کے رر سو لیکوان پر ا دی اہنت ہے و میا او رآخرت میں اور اللہ نے ا یکیلنۓے ذل ت کا عزاب تا کر رکھا ہے ۵)(کتاخان رسول) پارے ہوۓ میں جوا کہیں میں پڑے ای و کن 0220۴ جانمیں (۹۱)(ال طز اب ان آیات مرا رکہ سے معلوم ہوا متاخ ر سول ملق اور شی اور یل وخوار ہے لود یپ بن چلاکہ رسول اش کی ایڈاالڈد تال ی کی ایذا ک مترارف ے۔ ویو فی بیضاویء مدارک او سور تقیر مظر یز یآیت نمرے ۵ زاب بی ہے ال تال ٰکاذکر تیر سو لکیلئۓے ےگویاجن نے ر سول ال دکوایذ ادا

16

اسان ال کوایذادی۔ چنانچہ الام السلول لی شماتم الد سول میں این تمہ ن ےکا ہے اتال نے حضور یذ اکوا پیک تھ ایا ی جی اک7 و نئےر طول ال کی اطا عح تکوا پیا طاعت قراردبایا یل دو کاخ مپائ الد م ے۔ ۱ )٠١(‏ نر جحمہ) اے ایمان والور ول ار کور اعزا: نمو اور یں ع رخ شک روک "می نظ کر م فرمائیں او پللے بی سے خور اور نَجہ سے سنواورکافرو يکیلنئے درد ناک عزاب 9+ ۔اللقرہ)

جب توراز رس ال صحیل ہککرا مکو مھ ہے فان وروی در میان شی زاعزایار سول اللہ عم رت کیاکرتے اس کے یہ مخ ج ھےکہ یار ول ال ہارے عا لک اعاخت فرماثئے ( یکلام اق سکوا بھی طرح مھ لی کا مو تح دیج ) سو کی شش کہ اور کا مجن رک تھا اہول نے سی شیت ے: یہ انا )کن شرو حکیاعقرت مدان معاذ الہ ای عن وکیا صطلاع سے واقف ےھ آپ نے ایک روز یکلہ ال نکی زباع سے مر رای اے دشمنان خداتم پر الیل کی انت ہو اگر نر لسقی تی لاسرا لیے کور پذ وآ پھر جم ہوتے ہیں مسلمان بھی ق یی کت ہیں ا۲ ولب سی ۶ے ۳ر دو الم مگ اد مم اف دس میں حاضر ہو ہے ےک بآم میا رکہ اڑل موی اور راعناکن ےکی عمانعت ف ماد یکئی اور ا سکی ہجاے انظ رباکا لفط کن کا عم دیگمیااس معلوم پواکہ انی یعم السا مکی تق رورانک باب ہں اوب داتزرام کے مات ع رخ لکن فرح سے اور جن سکلمہ می ترک او کا ا2 نچ ھی ہدوہ زان پر لا منورع۔ دربار امیا ۓےکرام میس انا نکوادوب کے اع ممراح کا فاظ لازئیە شروریٰ ہے اور آخ ھآیت میس للکاف ری ا حطرف مشی رہ ےکہ ایا مم اسلا مک ناب مل بے اوٹ یکفر سے_۔ رر میں ظریں ایر اناپ اتل رو العالٰ_ ٹور ار نای_ (ا0)۔ :(27م)اے گزپ ال رآ پان سے پہ ہیں فو ضرورد ہۃکہیں گے ہم 7 ودای اور ےآ پ فرماد ی نکیا ابقد اور ا کی ا ات اوران کے

17

رو ل کا تم استجہ زار تے و )٦۵(‏ بمانے نہ +اوا یمان کے بعد ت مکافخر ہو گے )٦٦(‏ اوبے۔ پت چلاکہ جب استمزاعور سول ایل حلگ کی بارگاہ یں فو می نکر کفرے تو چرا ینمی اراڈ با راہ اف ۲ ٹیس بے او پدرج او کفر ان ایت کے شان نزول یس مر ق مرن جظر تین عائن کے شاک نیرکوی لو کہ ایک سک وش یکم ب ھگئی س رکار نے ارشاد فرملافلاں نہ سے ایک منافی نے جواب می نکیا تم ح کو خی بکاکیا پت ذ ابد نے اسب رآبیتںزل فر مائی۔ تفبیر جائالبان مض سمے ا(اطی جنر رین جم رالطمر ىی المتوثی دا٣‏ یر الد ر النشورمو لہ رت علا مہ جلالی اللد بن نیو گی- مطوے محسعلل البالی الحلبیٰ ح۸ زاوااسیر منافح اورگستاغ رمول تل نل نل یس چیہ ووعال تکفر پر مر جا چی کہ سور ٤ے‏ آیت أہ ر۸۰ ٹیل ے ۔ تجح دم ا نکی معائی جاہو یا چاہواگرم سز پاد ا نکی معاٹی چا ہو گے قیقد ہ رگز ا شیں ٹیس نیٹ گا۔ یراس مل ےکہ ووالشدلور اس کے رسول سے مر ہو تے ٹاچ ا سی کی تفیر علامہ ہیضاوئی نے بوں فرمال کہ مشن(لن یغفر الله لم )شش ال با تک طرف اشمار و ےکہ مففرت سے مال ی اور آپ کے استغفا رکی عدم تجو لیت نہ فوجارے خخل

کیوچہ سے سے اور نہ ڈووں وی رو یی 7 ہدنےکا بای کر سے جوا ناوات

ام شر مب یپا یی وشا تہ

با ' لر سے مسر دخلت علی امیر المومنین فقال لی اتعرف حدیٹا مسنذا فیمن سب النبی بش فیقتل قلت نعم فذکرت له حدیث عبدالرزاق عن معمر عن سماك بن الفضل عن عروہ ابن محمد عن رجل من بلقین قال کان رجل شتم النبی ٹٹك فتال النبی ہَلٹ من یکفنی عدو الی فقال خالد بن الولید انا فبعٹھ ۱ اليه فقتله فقال امیر المومنین لیس ہذا مسنذا هو عن رجل فقلت یا امیر المومنین بھذا یعرف ھذا الرجل و قد بایع النبی ٹل و هو معروف فامر لی بالف دینار۔ فتاوی السبکی ص٥١۵‏ جلد٢‏ الامام ابی الحسن تقی الدین علی بن عبدالکافی (۵ءھ مطبوعه دارالمعرفت بیروت لبنان

ر٣‏ استدل محمد لبیان قتل المٰرأہ اذا أعلنٹ بشتم الرسول تل بماروی ان عمر بن عدی لما سمع عصماء بنت مروان تؤذی الرسول فقتلھا لیلا مدحه تك علی ذلک (در مختار ص۲۸۰۰ جلد۳) مطبعه احیاء التراث بیروت لبنان مم فلوا علن بشتمه او اعتادہ قتل ولوا مرأة و به یفتی الیوم (رد المختار ص۲۷۸ جلد٣)‏

رم والحق انه بقتل عندنا اذا أعلن بشتمه عليه الصلوۃ والسلام صرح بھ فی سیر الذخیرۃ.۔ (در مختار ص ۲۸۰ جلد۴) مطبوعه احیاء التراث بیروت لبنان

ر۵ اذصرحوا قاطبۃ بانه یعزر علی ذلک و یؤدب وعو

19

یدل علی جواز قتله زجرا لغیرہ اذیجوز الترقی فی التعزیر الی القتل اذا عظم موجبھ۔ ھی رض تل رای الام حش ج۶ ں ۵۳ ۴)ائین عابر جن م۷ وفی حدیث ابن عباس و حدیث الشعبی ذدلیل علی انه یقتل من شتم النبی ٹ و قد تقل این المنذر الاتفاق علی ان من سب النبی ثَ صریحا وجب قتله و تقل ابوبکر الفارسی احد ائمۃ الشافعیة فی کتاب الاجماع ان من سب النبی َ بما عو قذف صریح کفر باتقاق العلماء فلو تاب لم یستط عنه القتل لان حد قذفه القتل وحد القذف لا یستط بالتوبة نیل الاوطار شوکانی ص ٣٠٢‏ جلد ء مطبعه البابی الحلبی بمصر بذل المجہود فی حل ابوداؤد ص ۰۰ جلدء!ا مؤلفه خلیل احمد سہانپوری متوقی ۷ھ مطبعه ندوۃ العلماء لکھنژ (الھند) واللّه اعلم بالصواب (ے)

ولا تطع کل حلاف مھین عماز مشاء بنمیم۔ مناع للخیر معتد اثیم عتل بعد ذلک زنیم۔ ان کان ذا مال و بنین۔ اذااثقاؾن عليه ایتنا قال اساطیر الاولین۔ سنسمه علی 2 طر اک ا 0اا اج ا سی ںکھاغوالا کے ا طعۓر ہن ولا ہہت او ع کی اوھ رکی لگا اپ ندال بھلال سے با رو گے وا حور ے بد تھے وا( اگ گار ورش٦ت‏ خوا سپ وط رب ا نکی امصل میں خطاائسی رک کچھ مال اور رکتا سے جب اس پر ہعاد کی آیتیں پڑیھی جائمیں متا ےکہ اگو کی

٦

20

کماخیاں ہیں ق٠رجب‏ ےکہ م۲۱۴ نکیا سو کی تھو تپ داد یں گے ۔ل(کنزال یمان) ٹس پچ رکرم شاء صاح بککھت ہیں دوککینہ اور رذ یل شف با رگا رسالت ئل گت کی جا تک جا ےک اس کے پا س مال ددولت ۲ کی فراوانی ہے اوراس سوا و چا را حول مرش جا وو ےجا سےکتتا ےکہ یہ خد کلام یں( 7 یر فیاء الق رآن) اس یت شی الیک اع شر کا فرولیدین مخ زہکی عفات رڈیل میا نکز کے ان سے اعم ران کر نے اود ا کی بات نہ مات کا خصوصی عم دیاگیا سے (کماروادائن بج معن الع عحبااس رص اڈ عن ) پی تنج وا کاپ نے انت نس ففن سے یہ ادصاف +یالن یئ گے ہیں دہ الیماجی خر غایت الضب تھا (تخیر موارف الت رآن ملف مفتی مھ شق دید ی) و0 ٭۔ انما الزنیم فی لغة العرب هو الدعی فی القول قاله جریر وغیر و احد من الائمة (ابن کثیر) وھو الدعی الملصق بالقوم ولیس منیم (معالم) ) یر ماپ ری مؤلو غپرالیاپردریا بادی) وبمعناہ (تخیر حخال مو لفہ مو لغ شب احر خن) الزنیم کا میر المستلحق فی قوم لیس منھم ۔فرلانجوی) صنل رد زم میں زم مکی بی تیر جا نکی ے او رکال ل بر دیُل او عبیرۓ روایت تک یاہ کہ نان نے ائن عاد تال تال عتماےپہ چاکہ زم یا سے وی اپ نے فراھو الدعی الملذقی (جا بج ااعرو ئ۸ ۹۱ مولفہ سیر ھ مرتی تا زیادی عفی سی ۹۲۰۵ا کت کے نزول ہولیدایاں کے پا پا اس نیا اور یو لے ضمور عاپٹلگ نے میرے ذس یوب بیان فرمائے کو و یش اپ انرک یولادس ی لک گے خجر ہے ایس ح ائی ہوں یا علالی پچ اور تر یرون ادا تب اا ںی مال طول یک تر لاپ نامرد تھا نے الد زیشہ بواکہ اس کےبحد ا سکامال خی ر نے

21 ایی گے جب میں نے فلاں روا ےکو لا لیا نواس سے باہو ال خمز ا وروں وصادگ وغمیر:1)اں کے معلوم ہو اک جس کے ول یں حور کنل سے عناد ہو او رآ پکی

ب رگوکی ا کا مشلہ ہودہ تائی + تا ے-

( تیر نورالعر فالن مل شی الام ملق امریار ذانصاحب) عن انس قال قال رسول الله ٹڈ لا یؤمن احدکم حتی اکونِ احب الیةمنوالدہ و زلدہ والتاس اجتعین (٣نطے)‏ (ترجہ) حفرت انس رص اللد عنہ فرماتے ہی ںکہ ف ماانی مالک نے تم میس ےکوی مو ھن میں ہو سکتا اکلہ ٹیس اسے ماں باب اوماد اور سب وگول سے پیار او جانا پسالنا ار تم اد یی وب و سا صرف شف کوک او لا ہکو مان باپ سے شی الفت ہو تی ےہ بی محبت تضور سے زیادو ہو چا ہے اور ہمد ہ تا لی ہر موم کو تضور چان ومال اور اوڑاو ے (یادہ پارے ہیں۔ عام مسلما ن بھی مر تم اوماد مہ بین ماں با پک پچھوزد تن ہیں۔ حضو رکی عمزت پر جالن پچھاو کر د ہے ہیں۔ غازی عبدالر جید مازگ عم دبین عب راقو مو یم یز نہ جاوید مثالن موجود ہیں رت شر ح مقاو ص٣‏ جلر١)‏

عد نیدب می سکستاغ رسول مدکی زا

کی |کحب من اشرف مود یکا شاعر تھاجو رسول

کپ کن اشرف پا گیا یچکقو رر سنوی چو می مشخول رج

خاجرت کے تیسرے ضا ش ۲۴ا رع الا ول شر نی فکی رات ا سکستاحخ ر سو لیکو

تخت یکر )گیا مج منار ی جلد ص۹ ے ۵ہ سج لم جلد ۱۰۴ا ءرار جال ٣‏ ۳" کپ نناٹر فی کے کے بعد ح جر تازاو را کا غ لوا ہوں

ار ی شر یف ٣ے‏ ۵ار جالجوۃ

ان١‏ تطل باگکتتا نر سو لکوت کے پدوںل کے درنیانا لیے ہو ےا کرد اگیا۔

در ىر یف۱ /۲۲۹, جب رتعلے ۹۱/۳

22

اور ا٢‏ ں اخل )کورہں ٣‏ لکرن ےکا عم وید تخوز علی الیزا مک" ٠‏ عاصہ ے۔ (حاشیہ جخار یی ریف )۲٢٢۹‏ ایک جیا صحالی کی مود لونڈرکی سرکار د ینہ مکی شان یش بے ادلی گتتائ یکر ی شی مادنا صحالی نے ا کان او داووشر ابی ۳ ۲٢‏ اثر ابی مزا یکو حضرت عمرر ضی الد عنہ نے حضور سور الم مل کے ٹک ے کیا ےک ےم یکر مظ ری * لان ء روح البیان: ایک نشیس عارٹ ئن طلاطا تضور یکر یم اذا ھا سے جطرت ال رکش مد ےم کردا (رار نج اوج۲ ۵۰۱) ایک قمر یہ نائیگھ یگستائ یکیو جہ سے ری کہ کے دن نف لک رد یگئی۔ (مرار ج ال۲2 ۵۰۹۰) ارم کنیٹ رین خطل بھی ض کرد یگئی۔ ا و کے کیک کیک ات مد جک تاد ننس این عبلہکولوگکوں تے بازار جس پیا تو ہیں ش٠‏ یکر وی ۔کنزالعمال ضص ۲۹۸ جلر ۵ مہ دائرۃامیارف حیدراملم مو لف علامہ می ئن سام لن و وھ - اع عیا رص اللہ تعائیٰ خنمااور شعبی گی حدیول ش١‏ سس جات بر دئحل ےکہ مشانخمز موق جک وف ںکیا جا ےکا انی میزرنے نف کیا ےک ا سیپ س کا ااالّے کہ تضور علیہ الصلاۃوالسلا مگوگالید ین ولا وجب القتل سے پور غارکی نے جھکہ شواخحع یں سے الیک بہت بڑے امام بر ات یکتتاب الاجا میس نف لکیا ےک تضور علیہ الصلاڈوا لا مکو جس نے ضر میگالیادی قزدہبانطاق الما کافرہے اورگروہ قکرے ‏ و بھی ا سک فی سا قط نیس ہ وکا ایز رکو لیر لا کے نت کیا لے اورعد نف وہہ سے ساقط میں ہولی۔ نل الاوطار۔ شوکائی ے ' / ۰۹ مطبعہ البائ الحلبی ۸ ہحصر۔ پل ارہ دحل اوواؤد ٤‏ أ/٭۰٭۳مولفہ یل اج سمانپدری متوئی سا ھ یکویگاکید نے میس غ٠‏ 8 ا ا 0

23 اللہ نک وگالی دے اسے ف کیا جات گا مر جع الریننے ڑ۵ ٣۱,‏ پر وت لان مة لف امام ل0 یو دوک ایک یمودبی عورت تضور ن یکر مم مک کسی و یا بی اور ا پ پا شمان اق رس میں بے ادٹی کے الفاظ بکتی تی ایک صحاٹی نے زور سے اس یکاکااد مایا جس 0809 ابو واؤ ور لی ٣‏ ۳۴اس مد سے تمامر جال سج ہیں۔عاش الو واؤد۔ ین تی نے غیرے اف مال کوایڑاوگی! سے بے ایی لور اور وڑھی میں لوں ےک حمور مال کے بال میا ر کفکواذ یت پاشانے وانے بر آسماں اور زی نکی وسعنوں کے برابر عنت ہو_ سزنئ ۹ ل٦‏ مولفہ علامہ میزث عبدال روف منادی موق ا کلت تچاد ےکی ری مر ححفرت مولی علی ر ضی ارڈ تی عدہ راو ی ہیں مضور علیہ انصلاوا سام نے ار شاو فھر مان یکی اد یکر نوا ے؟ 7 شف لکردواور صعھال یقکوگالی نے وا ےکو سر اوو۔ شناء شر نے ضص ۳۸۳۴ جلد ٣‏ رم مولیااطر تی خی ماع ما آ رام با کر اپ کہ مو یس رووا ور حر تکعب ئن علق ہ کی روایت ٹیں سےکہ ظرت گن عار لا یں حضور ای السلام کے صصعالی ہو یکا شرف عاصل ہے ساٹ یآ دی ج رگذرے اور نے حضرت خرفہ لے اسلا می د عوت دی ا اس نے می اکرم ال کی ان یش انظارے اوٹ کیا نے حضرت خرف نے شف سکرو حطرت عم رون عاض نت ےکماالن لوگوں نے ہوارے سا تم عد کر کے اعممینان پگڑا سے حضرت خر و نما ہما ان سے ا بات بر معابدہ یں ےک وہ گمیں ادقداور الد کے در سول کے بارے می ںکلیف پچھائیں۔ یا والصیل ض ۰۴م حص جم

: 24

جو خر اثوال آ2 با چھٹی دی کرک کے ٹیل القدرامام تا می عیاض رھت اللہ علیہ خریاتے ہیں۔ 1 ور یکر مم پل کی تنخِي کر نیدانے صراح تما اشمارڈ گال ید واتے آ پکاذاتد صفات نب غیرومیں عیب اگائیدانے یا تق و تفق واتر اکر از ےکا کر دیاجاے۔ اک پہ علاء کا ایاع ے او رآ فناووئی اس > بی ہیں حاب ہکرام رضمواان الڈ مم کے زعانہ ےر کک (شفاء شر یف ص۸۹ اجطلر )٥۱۹۰۳۲‏ ہر۴ مج کان ماک م حا کت تی کایاآ پکاذات اک پک کسی صفت سن کت کالما غواود وکتاٹ یکر الا پک امت جات ہویاۓ ہو خواووم وروی ا نھ رای ہو یااسلائی عکومت شی پناہ للنے والا ڈٹ یکافر ہو یادد مرن ککاف رہ اود تی نکر ے اس ایا اقابلور فلت ہر حالت یس دواد کیا دا یکا ف رہ گیا ال کا وب تہ غند اللر تولی ہے تہ عند الناس شر بون مطمر ,میں متافرین ٹجعد بی کے نز کیک ابا جاور اکر یتر مین کے کی بر یقت مضمم رہ کی رو ےا کا شی عم ای کے ےش کردا جاے لمت یااں کے مار معمرنفل میس تو (خلاصۃ الفتاويٰ ض۸۹ ۳جلر )٣‏ بر٣‏ حضور ب یکر مم ماود تام اخیا کرام مم السلا مکیابے ادن یکر ندال ےکی رد الد آخرت یل قول ٹن اس کے علادوس بکفارکی قب قول ہو سی ے_

. (الا شپاووالظاء ص۱٢۲)‏ رم ہب امام اید عپیفہ کے فھآوکی بیس سےکہ ننس مس نے تورم پیل ہک وگاکی دگااسے گت کیا جات ےگااور ا کی او ول نیس فواودہ مو ین ہو اکا فر اور ظاہرے 7 ورپ یکمتا ٹیک وج سے ذٹ یکا عمد ٹوٹ جاتا ہے

تفر مظر یس |۹جلر ‏

25 ر۵ ار لی الا لان تضمور یگ ہک گال ید : ے یا آ پکوگال ید ناا سک ءادت ئن ۓ ناف کیا جا ےگا لا ورس تک یکول ہو_آ ا کل ای یر فی ے_ رق ص ٣۱۳‏ جلد ۳) مطبوع مع رالپاٹی الحلبی علاء ام تکایماعغ ےکہ ب یکر مم یشک وگالی د ہے دا اور ضور می کی نکر نیوا اکا فرے۔ ا سکیل الد تال یکیو عیرے اور امت کے ود پآ ا کا تم جوا ک ےکر اور عز[ابٹل یع لے ۔

رت انار ول ل ال کی وو کرے کرت ب0*٭0ھ٭

پ فا شالن الد نٹ سیر کے" لیم س گا م جب ۴ہ .0 اواراس می مد گیا انس وجہ سے اس کے کاب سے خاد ن ٭ گی تاب اائ را لا تی ااماماو و سف' ضص۸۹))

۸ نم نماد کلان: متاخ رسولی - کے کر اور گی بآ اریع (ایام امم یہ امام مالک ء امام شافقی امام اصرین عمبل ری ارڈ سم کا نفاقی ہے

(ااید رم اکمسلول این تھے صلی صہ ۸ قال محمد سہل سمعت علی بن المدینی یتول دخلت لی امیر المومنین فقال لی اتعرف حدیٹا مسندا فیمن سب نبی مخ فیقتل قلت نعم فذکرت لهە حدیث, عبدالرزاق عن مر عن سماك بن الفضل بن عروۃ ابن محمد عن رجل من تین قال کان رجل شتم النبی تن فقال النبی نٹ من یکفنی دوالی'' فقال خالد بن الولید انا فبعثه اليه فقتله فتال امیر مومنین لیس ہذا مسنذا هو عن رجل فقلت یا امیر المومنی ذا یعرف ھذا الرجل و قد بایع النبی با وھو معروف وامر لی لف دینار ص ۵۲۹ جلد٢‏ فتاوی السبکی مؤلفه الامام ابی گسن تتی الدین علی بن عبدالکافی السبکی۔. المتوفی 2۵ھ

26

مطبعی دا رالمعرفه بیروت لبنان اماسب النبی بن فالاجماع منعقد علی انه کفر والاستھزاء به کفر قال الله تعالی (ابا للَه وایاته و رسوله کنتم تستھزؤن لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم) بل لولم تسھزؤا قال ابوعبید القاسم بن سلام فیمن حنظ شطربیت مما عجا بھ النبی تَنٹ فھ و کفر و قد ذکر بعض من الف فی الاجماع اجماع المسلمین علی تح, تحریم ما عجی بھ النبی بل اہ وكتایته رقراتھ و ترک متی اوجد دزن مسرو (فتاوی السبکی ص ۵۶۳ جلد٢)‏ مطبعه دارالمعرفه بیروت لبنان یم جن کل فرماتے ہیں می نے علیائن مھ بئی سے سنادہ فرمار سے تھے بس ام الم" جن کے پا سکیا نوا خھوں نے یج ھےکماکہ آ پکوئ ای ممند عد ین جات ہی ںک ہس یس کس یخس نے ن یکر مم مکل کی شان اق می متا یکی ہداس بنا یر ا سے 20 کم دیاگیا ہو ؟ و یس نے ایک عد یت میا نک کہ ای کک دی ےے مور خلیہ الصزاة والسلا مکوگالی دی تھی نوس کارب یکر یم مل نے(اپے اصحاب ے)ارشاد فرمیااں

ور فا تکرج ہے حفرت خالد ند ےم کی ت وضو تاب الصڈاوالسلام نے ا کو میا وہ اے 00 آۓ امیر الموشمجین نے جج (ای حد یٹ کے سنانے بر )ایک راد 1000 ہ ینارد ےکا عم دیا۔

ین حضور ن یکر کو (معاذ اللہ )گال د یناف علا کا اس بر ماخ ےک

بیکففرے نیز کااستمزاکفر سے الد توالی نے فربایا کیاا بد اور ا کی ول اورانس کے رسولوں سے جن ہو۔ بھانے نہ ,او تمکافر ہو کے مسلران ہ کر بای اگ نہ بھی و انت زا کر می وی بی اڑی یکختگ وکر میس جب کھج یکا ف ر ہو کن یگ نے شع ا 1یک مضرع پا رکیاین یس پرنے می پل سے بے اد لور جم ہے گھ گکفر ہے۔ اعض وولوگ جنننوں نے اس ملہ (شاغم رم لکا عم ب کنب تر کی ہیں اغموں نے مسلرافو ںکااج اع ذک رکیاے۔ کہ تضمورافور حپٹے کی ہچ کر

ا سک ولک ااور بڑ عن اسب رام ہے لہ اس لیت ہو ۓےکوجب فکررت یا فو رآمڑاو

متا رعول بی متعلق علاء